آپ کے بیٹھنے کا انداز جذباتی حالت اور فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
میک گل یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کسی فرد کے بیٹھنے کا انداز ہماری توقعات سے زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے۔
درحقیقت کمر سیدھی رکھ کر بیٹھنے والے افراد زیادہ مثبت احساسات اور اپنے کام کو زیادہ بہتر انداز سے کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں 200 کے قریب افراد کو شامل کیا گیا تھا جو اسی یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
ان افراد سے ایک کمپیوٹر مانیٹر کے ذریعے ٹیسٹ مکمل کرائے گئے اور پھر انہیں ایک ٹیبلیٹ پر مزید ٹاسک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی اور اس عمل کا تجزیہ ایک ایپ میں کیا گیا۔
اس ٹیبلیٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ جس سے معلوم ہوسکے کہ بیٹھنے کا انداز کس حد تک شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ایک گروپ کو ایک میز پر ایک اسٹینڈ کے ذریعے ٹاسک مکمل کرایا گیا جس دوران کمر سیدھی رہتی تھی جبکہ دوسرے گروپ میز پر آگے جھک کر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا۔
بعد ازاں ان افراد سے خطرہ مول لینے والی گیم مکمل کرائی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کمر سیدھی کرکے بیٹھنے والے افراد گیم میں زیادہ خطرہ مول لے کر زیادہ پوائنٹس حاصل کرتے ہیں جبکہ ایسا وہ لاپروا ہوکر نہیں کرتے، بلکہ زیادہ مؤثر انداز سے فوری فیصلے کرتے ہیں۔
سوالناموں کے جوابات سے بھی ثابت ہوا کہ ایسے افراد زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں اور اس جذبے کو مثبت مزاج سے منسلک کیا جاتا ہے۔
ماہرین طویل عرصے سے یہ خیال ظاہر کرتے رہے ہیں کہ جسمانی انداز خیالات، جذبات اور رویوں پر اثرات مرتب کرتا ہے۔
اس تحقیق کا مقصد ان خیالات کی حقیقت کو جاننا تھا۔
محققین کے مطابق ہم حتمی طور پر تو نہیں کہتے کہ بیٹھنے کے انداز میں تبدیلی سے کسی فرد کی زندگی میں ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے، مگر نتائج سے یہ ضرور عندیہ ملتا ہے کہ اس سے جذبات اور فیصلہ سازی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج برٹش جرنل آف سائیکولوجی میں شائع ہوئے۔