چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کا بحران اب صرف توانائی کی قلت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی معیشت پر ایک ایسے بوجھ کی شکل اختیار کر چکا ہے
جس نے عوام، صنعتوں اور حکومتی مالیاتی نظام کو شدید دباو¿ میں مبتلا کر دیا ہے۔ نجی پاور پلانٹس یعنی آئی پی پیز کو سالانہ ادائیگیاں 3400 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ ملک کا عام شہری مہنگی بجلی، اضافی ٹیکسوں اور بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے۔
یہ صورتحال محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی استحصالی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں ایسی شقیں شامل کی گئیں جن کے تحت حکومت بجلی خریدے بغیر بھی “کیپسٹی پیمنٹس” ادا کرنے کی پابند ہے۔
یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا ہے کہ اگر بجلی پیدا نہ بھی ہو تب بھی قومی خزانے سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کا بوجھ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں میں ادا کرنے پر مجبور ہے جبکہ صنعتیں مہنگی بجلی کے باعث عالمی منڈی میں مقابلے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اس لوٹ مار میں حکومت کی ذمہ داری بھی برابر ہے۔ مختلف حکومتیں برسوں سے ان معاہدوں پر نظرثانی کرنے، شفاف تحقیقات کرانے اور غیر منصفانہ شرائط ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ سیاسی مفادات، طاقتور کاروباری روابط اور کمزور احتسابی نظام نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوامی مفاد کو ترجیح دیتی تو آئی پی پیز معاہدوں کی مکمل آڈٹ اور ازسرنو تشکیل بہت پہلے کی جا چکی ہوتی۔ موجودہ صورتحال نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں افراد غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کا شکار ہیں، وہاں چند کمپنیوں کو کھربوں روپے کی ضمانت دینا عوامی اعتماد کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ حکومت فوری طور پر توانائی پالیسی پر نظرثانی کرے، غیر شفاف معاہدے ختم کرے اور سستی بجلی کے مقامی ذرائع کو فروغ دے۔ بصورت دیگر آئی پی پیز کا یہ مالیاتی بوجھ نہ صرف معیشت کو مزید کمزور کرے گا بلکہ عوامی غصہ بھی خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
بلو چستانپاکستان
عام شہری مہنگی بجلی، اضافی ٹیکسوں اور بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر