بلو چستان

پاک،ایران سرحد پر مزدوروں پر حملہ امن اور تجارت کو سبوتاژ کرنے کی افسوسناک اور قابل مذمت گھناو¿نی سازش ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاک۔ایران سرحدی علاقے کنٹالی ہور میں مزدوری کے کام میں مصروف محنت کشوں پر حملہ، جس کے نتیجے میں دو مزدور جاں بحق ہوگئے، نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور تشویشناک واقعہ ہے یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت، اقتصادی روابط اور باہمی تعاون میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے واقعے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی مثبت فضا کو نقصان پہنچانا اور سرحدی علاقوں میں خوف و عدم استحکام کو بڑھانا ہے سرحدی پٹی کی عوام کا زیادہ تر انحصار روزگار، بارڈر مارکیٹوں اور چھوٹے پیمانے کی تجارت پر ہے۔ ایسے حملے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہیں بلکہ مقامی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ مزدور طبقہ پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے، اور ان پر حملے دراصل غربت سے لڑنے والے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔. پاک۔ایران سرحد پر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں بعض تخریبی عناصر کو قبول نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط خطے میں استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتیں دہشت گردی اور بدامنی کے ذریعے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔. پاکستان اور ایران مشترکہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مو¿ثر بنائیں تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ہوسکے۔ اس سانحے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔ اس طرح کے بزدلانہ حملے پاک۔ایران تعلقات کو کمزور نہیں کرسکتے، بلکہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خلاف مزید متحد اور مضبوط بنائیں گے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *