صحت

ہر رات 7 سے 8 گھنٹوں کی نیند کے باوجود تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے؟

کیا رات کو 7 سے 8 گھنٹوں کی نیند کے باوجود تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے؟

اگر ہاں تو اس کی وجہ نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ اس کا ناقص معیار ہوسکتا ہے۔

یہ بات اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر کے ہر 10 میں سے 7 افراد کو بے خوابی یا سلیپ اپنیا کا سامنا ہوتا ہے۔

\سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے افراد میں نیند کی کمی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے جس کی وجہ روزگار سے جڑا تناؤ ہوتا ہے۔

ناقص نیند کے نتیجے میں متعدد دائمی امراض بشمول ڈیمینشیا، ڈپریشن اور کینسر وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق میں 50 سے 66 سال کی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا۔

ان افراد کی صحت اور نیند کا جائزہ ایک سال تک لیا گیا۔

اسمارٹ واچز اور سوالناموں کے ذریعے تفصیلات حاصل کی گئیں جن سے دریافت ہوا کہ سب افراد کو نیند کے مسائل جیسے رات میں بار بار جاگنے اور نیند کے ناقص معیار کا سامنا تھا۔

ویسے تو اکثر افراد نے ناقص نیند کی وجہ ناکافی وقت تک آرام کو قرار دیا مگر تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا کہ اکثر نیند متاثر ہونا اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

تحقیق میں شامل 90 فیصد افراد رات کو جاگ جاتے تھے حالانکہ رات بھر میں وہ ساڑھے 6 سے 8 گھنٹوں تک سوتے تھے۔

لگ بھگ 70 فیصد افراد کو نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا تھا جبکہ لگ بھگ 92 میں نیند کے کسی عارضے کو دریافت کیا گیا۔

محققین کے مطابق نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ اس کے متاثر ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ناکافی آرام کا احساس ہوتا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان عناصر کی نشاندہی کی جو ناقص نیند کا باعث بنتے تھے، جن میں تناؤ، غذا، ورزش اور آواز کی آلودگی قابل ذکر تھے۔

دفتر سے جڑا تناؤ اکثر نیند متاثر کرنے کا باعث بنتا ہے خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد میں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *