یک شخص سیلاب سے متاثرہ علاقے میں موجود والدین تک پہنچنے کے لیے 3 گھنٹوں تک سیلابی پانی میں تیراکی کی تاکہ ان کی خیریت معلوم کرسکے۔
یہ واقعہ چین میں سامنے آیا۔
چین کے صوبے گوانگشی کے جنبوبی خطے میں گزشتہ دنوں طوفانی بارشوں اور ڈیم منہدم ہونے سے 39 افراد ہلاک اور 4 لاکھ کے قریب متاثر ہوئے تھے۔
30 سالہ شائی کے والدین بھی اس صوبے کے علاقے Qinzhou کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور یہ علاقہ سیلاب سے متاثر ہوا تھا۔
شائی اور ان کے 2 بھائی ایک قصبے میں مقیم ہیں جو والدین کے گاؤں سے 10 کلومیٹر دور ہے۔
5 جولائی کی شب شائی کی والدہ نے فون کرکے بیٹے کو بتایا کہ ان کے شوہر چاول کی فصل کو محفوظ کرنے کے لیے نکلے تھے اور اب تک واپس نہیں آئے اور وہ ان کے لیے پریشان ہیں۔
وہ گاؤں پہلے ہی سیلاب سے متاثر ہوچکا تھا اور متعدد گھر ڈوب چکے تھے جبکہ موبائل سگنلز بھی متاثر ہوئے تھے۔
اس فون کال کے بعد شائی دوبارہ والدین سے رابطہ نہیں کرسکے تو وہ ساری رات نہیں سو سکے اور خدشہ پیدا ہوا کہ ان کے والد سیلاب میں بہہ نہ گئے ہوں۔
شائی کے خاندان کے گاؤں میں 2 گھر ہیں، ایک گھر پہاڑی پر واقع ہے جو سیلاب سے متاثر نہیں ہوا جبکہ دوسرا کھیتوں کے قریب ہے جو سیلاب میں ڈوب گیا۔
شائی اور ان کے ایک دوست ٹرک کے ٹائروں کی ٹیوبز خریدی اور گاؤں کی جانب تیرنا شروع کر دیا۔
وہ 3 گھنٹے تک ٹائر ٹیوب کو تھام کر گاؤں کی جانب تیرتے رہے اور گھر پہنچنے پر سیلابی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا۔
شائی نے دیکھا کہ ان کے والد کھیتوں کے قریب واقع گھر کی اوپری منزل پر پھنسے ہوئے ہیں۔
شائی کے والد بیٹے کو دیکھ کر مسکرائے مگر بیٹے نے چاول کی کچھ مقدار کے لیے زندگی خطرے میں ڈالنے پر باپ کو ڈانٹا۔
شائی نے والد کو قریب پیچھے موجود تنگ راستہ دکھایا اور پہاڑی پر واقع گھر تک پہنچ گئے۔
والدین کی خیرت یقینی بنانے کے بعد شائی دوبارہ واپس قصبے میں چلے گئے اور واپسی کا سفر بھی 2 گھنٹوں تک تیر کر طے کیا۔
شائی نے تسلیم کیا کہ اگرچہ وہ زندگی میں متعدد بار تیراکی کرچکے ہیں مگر وہ منجمد کر دینے والے سیلابی پانی سے اب بھی خوفزدہ ہیں جبکہ 3 گھنٹوں تک تیرنے سے وہ بہت تھک چکے تھے۔