اہم خبراہم خبریںپاکستان

گوادرایران ،وسطی ایشیا تجارتی راہداری: علاقائی معیشت کیلئے نیا باب ثابت ہو گا،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ کے ذریعے ایران سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیائی ریاستوں تک نئی تجارتی راہداری کا آغاز علاقائی معاشی نقشے میں ایک بڑی پیش رفت ہے حالیہ ہفتوں میں اس راہداری کے تحت پہلی برآمدی کھیپ ازبکستان روانہ کی گئی جس نے اس منصوبے کو عملی شکل دے دی ہے یہ راہداری نہ صرف پاکستان کو وسطی ایشیا کی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے بلکہ روایتی افغان راستوں پر انحصار بھی کم کرتی ہے اس منصوبے سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت اور کاروباری حجم میں نمایاں اضافہ متوقع ہے یہ راہداری سالانہ تقریباً 15 ارب ڈالر تک تجارت کے امکانات پیدا کر سکتی ہے جو ماضی میں محدود سطح پر تھی۔ زمینی راستے کے باعث ترسیل کے اخراجات اور وقت میں کمی آئے گی جس سے برآمدکنندگان کو مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا ہے کہ بلوچستان خصوصاً گوادر، اس منصوبے کا سب سے بڑا مستفید علاقہ بن کر ابھر سکتا ہے بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور مقامی صنعتوں کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اسکے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ صوبے کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت، جو ماضی میں محدود رہی، اس راہداری کے بعد 15 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور توانائی، ٹرانزٹ اور سرحدی تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے گوادر،ایران،وسطی ایشیا راہداری نہ صرف پاکستان کیلئے اسٹریٹجک معاشی موقع ہے بلکہ یہ پورے خطے کیلئے اقتصادی انضمام کا ذریعہ بن سکتی ہے اس منصوبے کو مو¿ثر پالیسی، امن و استحکام اور جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے اور بلوچستان کی محرومیوں کے خاتمے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *