چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف پاکستان کی معیشت کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ماضی میں زیادہ تر سکیورٹی اور جغرافیائی سیاست تک محدود رہے، تاہم اب دونوں ممالک کی توجہ تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (AI)، توانائی، زراعت، معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کی جانب منتقل ہونا ایک مثبت اور دور رس پیش رفت ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ امریکی کاروباری اداروں اور عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید سازگار بنائے، غیر ضروری سرخ فیتہ ختم کرے، سرمایہ کار دوست قوانین متعارف کرائے اور ون ونڈو سہولت کو مو¿ثر بنائے۔ اگر امریکی کمپنیاں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جدید ٹیکنالوجی اور مہارت پاکستان منتقل ہوگی، صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کو درکار سرمایہ بھی میسر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھی تقریباً 25 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک بڑی، نوجوان اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے دونوں ممالک کو یکساں اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔انہوں نے زور دیا کہ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دیگر دوست اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی سفارت کاری کو وسعت دی جائے تاکہ پاکستان کے مجموعی تجارتی حجم، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ 20 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کیلئے پالیسیوں کا تسلسل، سرمایہ کار دوست قوانین، توانائی کی بلا تعطل فراہمی، شفاف ریگولیٹری نظام، عدالتی نظام پر اعتماد، سیاسی و معاشی استحکام اور مو¿ثر ادارہ جاتی معاونت ناگزیر ہے۔ سرمایہ کار اسی وقت طویل المدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں جب انہیں قانونی تحفظ، معاہدوں پر مکمل عملدرآمد اور محفوظ کاروباری ماحول کی یقین دہانی حاصل ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکی سرمایہ کاروں کو دی گئی دعوت دونوں ممالک کے تعلقات کو اقتصادی بنیادوں پر مزید مستحکم بنانے کی مثبت پیش رفت ہے۔ اگر اس وڑن کو عملی اصلاحات، باہمی اعتماد اور مو¿ثر حکومتی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے تو آئندہ چند برسوں میں نہ صرف دوطرفہ تجارت 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے بلکہ پاکستان علاقائی تجارت، صنعتی ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تجارت کو 20 ارب ڈالر تک بڑھانا پاکستان کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، امریکی سرمایہ کاری سے روزگار، برآمدات، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کو نئی رفتار ملے گی، اقتصادی سفارت کاری اور سرمایہ کار دوست اصلاحات ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہیں۔
بلو چستان
پاک امریکہ تجارت 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف، پاکستان کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر