جمعیت علماءاسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی، حاجی نعمت اللہ خان اچکزئی اور دیگر نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مجوزہ نئے نظام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر ایک اور معاشی حملہ ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوگا، ٹرانسپورٹ کے کرائے، اشیائے خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کی تمام ضروری اشیاءکی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوگا جبکہ عام شہری، مزدور، کسان، تاجر اور تنخواہ دار طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایسے فیصلے کر رہی ہے جو معاشی بے یقینی، کاروباری عدم استحکام اور عوامی پریشانی میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ رہنماو¿ں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس عوام دشمن پالیسی کو واپس لے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے اور عوام کو مزید معاشی بوجھ تلے دبانے سے گریز کرے۔
بلو چستان
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مجوزہ نئے نظام قابل مذمت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق