بلو چستان

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی عسکری کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کے نتائج صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، معیشت، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی استحکام پر بھی گہرے اور دیرپا منفی اثرات مرتب ہوں گے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی، انسانی المیے، معاشی بحران اور علاقائی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی کو فوری طور پر سفارتی ذرائع سے نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان، قطر، سعودی عرب، عمان، ترکی، مصر اور دیگر بااثر ممالک کو فوری طور پر مشترکہ سفارتی اقدام کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ذمہ دار عالمی قیادت کا تقاضا ہے کہ وہ جنگ کے بجائے امن اور مکالمے کو ترجیح دے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریق اشتعال انگیز بیانات، فوجی کارروائیوں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کریں۔ تحمل، بردباری اور سفارت کاری ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی سے فائدہ صرف ان عناصر کو پہنچتا ہے جو خطے میں دائمی عدم استحکام، تصادم اور تقسیم کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جبکہ اس کا نقصان پوری امتِ مسلمہ، خطے کے عوام اور عالمی معیشت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر نے ماضی میں بھی حساس علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں اعتماد سازی اور سفارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی دونوں ممالک اپنی متوازن خارجہ پالیسی، قابلِ اعتماد سفارتی ساکھ اور تمام متعلقہ فریقوں سے روابط کی بنیاد پر کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ فوری اور مو¿ثر سفارتی اقدامات کے ذریعے جنگ کے خطرات کو روکیں، بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنائیں اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے بروقت اقدام نہ کیا تو اس بحران کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سلامتی اور اقتصادی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *