دنیا بھر کے ہوائی جہاز سفید لیکن ایئر نیوزی لینڈ کے طیارے سیاہ کیوں؟
اگر آپ کبھی کسی ہوائی اڈے کے رن وے کے قریب کھڑے ہوئے ہوں یا آن لائن پروازوں کی تصاویر دیکھی ہوں تو ایک بات فوراً واضح ہو جاتی ہے کہ تقریباً ہر کمرشل طیارہ ایک جیسا دکھائی دیتا ہے: لمبا ڈھانچہ، بڑے پر، اور عموماً سفید رنگ۔ کم لاگت ایئرلائنز سے لے کر طویل فاصلے کی پروازیں کرنے والی بڑی کمپنیوں تک، سفید رنگ ہی فضا پر حاوی نظر آتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہوا بازی کی ایک ان کہی روایت ہو۔ تاہم کبھی کبھار کوئی ایئرلائن اس روایت کو اس قدر جرات کے ساتھ توڑ دیتی ہے کہ سب کی نظریں آسمان کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔
یہ ایئرلائن ہے ایئر نیوزی لینڈ۔ جہاں زیادہ تر فضائی کمپنیاں عملی وجوہات کی بنا پر سفید رنگ کو ترجیح دیتی ہیں، وہیں ایئر نیوزی لینڈ نے سیاہ رنگ کے طیاروں کو اپنی عالمی شناخت بنا لیا ہے۔ درحقیقت اسے دنیا میں سب سے زیادہ سیاہ رنگ سے رنگے گئے کمرشل طیاروں والی ایئرلائن کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے ایک کہانی ہے جس میں ثقافت، برانڈنگ، ہوا بازی کی سائنس اور رگبی کا فخر سب شامل ہیں۔
اس سے پہلے کہ یہ سمجھا جائے کہ ایئر نیوزی لینڈ نے سیاہ رنگ کو کیوں اپنایا، یہ جاننا ضروری ہے کہ تقریباً کوئی اور ایئرلائن ایسا کیوں نہیں کرتی۔
کمرشل طیارے عموماً سیاہ کیوں نہیں ہوتے؟
کسی طیارے کو رنگنا صرف ظاہری خوبصورتی کا معاملہ نہیں ہوتا۔ ہر رنگ کے انتخاب کا اثر لاگت، حفاظت، کارکردگی اور طویل مدتی دیکھ بھال پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ایئرلائنز آج بھی سفید رنگ کا انتخاب کرتی ہیں۔
ذیل میں وہ بنیادی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں جن کی وجہ سے سیاہ طیارے کم دیکھے جاتے ہیں:
1: سفید رنگ طیارے کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے
سفید رنگ سورج کی روشنی کو جذب کرنے کے بجائے منعکس کرتا ہے۔ یہ بات جتنی سادہ لگتی ہے، اتنی ہی اہم بھی ہے۔ جب طیارہ رن وے پر کھڑا ہوتا ہے، خاص طور پر گرم ممالک میں، تو گہرے رنگ تیزی سے حرارت جذب کرتے ہیں۔
سیاہ طیارہ جلد گرم ہو سکتا ہے، جس سے کیبن کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین پر ایندھن کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔ سفید طیارے نسبتاً ٹھنڈے رہتے ہیں، جس سے آپریشن زیادہ مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بن جاتا ہے۔