اہم خبربلو چستان

بشیر زیب اینڈ کمپنی کو خواتین کا استحصال کرنے پر شرم آنی چاہےے، میر سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تربت سے تعلق رکھنے والی طالبہ کو گرفتار کرلیا ہے جسے اسلام آباد میں خود کش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا،دہشتگردوں کا بلوچ اور بلوچیت کی روایات سے کوئی تعلق نہیں۔
،بشیر زیب اینڈ کمپنی کو خواتین کا استحصال کرنے پر شرم آنی چاہےے ۔ یہ بات انہوں نے پیر کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں تربت سے گرفتار ہونے والی خودکش بمبار خاتون خیر النسا ، مشیر برائے کھیل مینہ مجید، وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تربت سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ خیر النسا کو ہم نے دشمن عناصر کے ہاتھ استعمال ہونے سے بچا لیا ملک سے غداری کر نے والے کس طریقے سے خواتین کو بلیک میل کرتے ہیں یہ کہاں کی بلوچ قوم کی خدمت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ تربت سے تعلق رکھنے والی سیکنڈ ائیر کی طالبہ کو اسلام آباد میں خود کش حملے کیلئے تیار کیا گیا اور وہ اسلام آباد جار رہی ہے جس پر اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے طالبہ کو گرفتار کرلیا انہوں نے کہا کہ طالبہ نے بتایا کہ اس کے ایک کزن نے بلیک میل کر کے کالعدم تنظیم بی ایل اے میں کام کرنے اور خودکش حملے کے لئے تیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا تو اس کے والد کو قتل کرنے کی دھمکی دیکر بلیک میل کیا طالبہ نے دہشت گردوں کے کیمپ میں حاصل کی طالبہ سے اسلام آباد میں خودکش حملہ کر اکر پاکستان کی اہمیت کو دنیا کے سامنے سپوتاڑ کرنا تھا مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملادیا جنہیں داد تحسین پیش کر تا ہوں انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا بلوچ اور بلوچیت کی روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صرف وہ اپنے گھناو?نے مقاصد کے لئے بلوچستان کی معصوم بلوچ بچیوں کو ورغلاکر سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ بچی نے جو تفصیلات بتائی ہے وہ میڈیا کے سامنے بتانہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ویڈیو کلپ بناکر بچیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میل کرتے ہیں بلوچ معاشرے میں خواتین کا اہم مقام ہے بلوچستان قبائلی صوبہ ہے جہاں پر تنازعات، لڑائی جھگڑوں اور جنگوں میں خواتین آجائیں تو ان کے احترام میں جنگیں روک دی جاتی ہیں۔ یہ کونسا طریقہ ہے کہ بچیوں کو بدنام کرکے استحصال کیاجائے بچی کو اسکے والد کے حوالے کررہے ہیں دہشت گرد بلوچ بیٹیوں اور بہنوں کو استعمال کررہے ہیں اداروں نے پاکستان کو بدنامی سے بچایاہےجلد ہینڈلر دہشتگردوں کو بھی گرفتار کرلیں گے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری دہشتگردی کی وجہ نہیں ہے دہشتگردوں کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کاروائی کی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے بحالی سینٹر میں 48سے زائد افراد کی بحالی کاکام جاری ہے بحالی سینٹر میں ایک خاتون بھی شامل ہے بلوچستان کے کچھ علاقے ڈسٹرب ہیں اینٹی پاکستان بیانیہ کے خلاف دشمن نے تیس چالیس سال کام کیاہے پاکستان کے خلاف کون کونسے ممالک کام کررہے ہیں انکی پوری معلومات حکومت کے پاس ہے بچیوں کو استعمال کرکے دہشت گرد کچھ حاصل نہیں کرسکتے آج بھی بلوچستان کے نوجوانوں اور لوگوں کو استعمال کیاجارہاہے۔۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل اس لڑکی کے مسنگ ہونے کی اطلاع ملی سیکورٹی اداروں نے لاپتہ لڑکی کا سراغ لگایایہ لڑکی لاپتہ نہیں تھی یہ دہشت گرد تنظیم میں تربیت حاصل کر رہی تھیں بلوچستان میں خواتین کو استعمال کیا جا رہا ہے اس لڑکی کو کہا تھا کہ آپ اپنے باپ کو بھی قتل کر دیں اگر وہ نہ مانے۔ اسلام آباد میں خودکش حملہ کروایا جانا تھااس بچی کو نہیں بتایا گیا تھا کہ ٹارگٹ کہاں ہے۔ بچی کا والد ٹرک ڈرائیور ہے آج ہم باعزت طور پر انہیں حوالے کر رہے ہیں انکی سیکورٹی پر نظر رہے گی بچی کم عمر ہے ان کا بری طرح استحصال کیا گیابشیر زیب اینڈ کمپنی کو اس اقدام پر شرم آنی چائیے بھارت اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کا امن خراب کرنا چاہتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک دو یونین کونسل میں سکیورٹی کے ایشوز ہوسکتے ہیں مگر بلوچستان کے دیگر علاقوں میں صورتحال بہتر ہے کیا بشیر زیب شہر میں آکر پریس کانفرنس کر سکتا ہے،کبھی نہیں کرسکتاآپ کو نوکری نہیں ملی،ہسپتال نہیں ملا،سڑک نہیں ملی اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ بندوق اٹھا لیں ریاست پاکستان کے پاس سارے ثبوت ہے کہ کہاں کہاں سوشل میڈیا ہینڈلنگ ہورہی ہے بلوچ کو لاحاصل جنگ میں ڈال دیا گیاہے۔ دہشت گرد سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیمی اداروں سے نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے ہم نے اپنے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کیلئے انگیج رکھنا ہے اس کے لئے ڈی جی آئی ایس پی آر اور میں نے گوادر، تربت سمیت دیگر علاقوں کے دورے کئے ہیں اور آئندہ نوشکی، خاران میں بھی گرینڈ جرگے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پہلے 70 فیصد کنٹرول کرکے اپنا بیانیہ چلاتے تھے اور 30 فیصد حکومت کے پاس تھا لیکن اب 70 فیصد حکومت کے پاس ہے۔ لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم مثبت اقدامات اور حقائق سے عوام کو آگاہ رکھیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *