بلوچستان میں حراستی مراکز کے قانون پر تنقید: ’اس میں منصفانہ ٹرائل کا عنصر غائب ہے، نہ جج کا پتا ہو گا اور نہ گواہ کا‘
‘وہ لوگ جو لاپتہ افراد کے معاملے پر سیاست چمکاتے تھے، اُن کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو رہی ہے کیونکہ ہماری حکومت نے اس مسئلے کو حل کیا ہے۔‘
بلوچستان کابینہ کے 22ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے انتہائی پُراعتماد انداز میں مزید دعویٰ کیا کہ ’یکم فروری کے بعد بلوچستان سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘
پیر کو منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی (بلوچستان ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم اور بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 کی منظوری دی گئی۔
ان ضوابط کی منظوری کے بعد بلوچستان میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے جن میں ایسے افراد کو رکھا جائے گا جن پر شبہ ہو گا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں یا کالعدم تنظیموں سے روابط رکھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جن مشتبہ افراد کو اٹھایا جائے گا اُن کے رشتہ داروں کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور حراستی مراکز میں اُن سے انھیں ملاقات کی بھی اجازت بھی دی جائے گی۔