فوج تقسیم پر نہیں بلکہ زخموں کو مندمل کرنے پر یقین رکھتی ہے: سکیورٹی حکام
’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں کو یک زبان ہو کر جواب دینا ہو گا۔ اس معاملے پر ہمارے لیے سب برابر ہیں۔ اس کے لیے جو بھی ہمارے ساتھ بیٹھے گا ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔‘ یہ وہ جملے ہیں جو لاہور میں بدھ کو ایک اعلٰی سطح کے فورم پر پاکستان کے سکیورٹی حکام نے اِن کیمرہ بریفنگ کے دوران کہے۔
اس بریفنگ میں سینیئر صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ پاکستان کے سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتیں اپنے بیانیے رکھنے کا حق رکھتی ہیں اور جس طرح کی مرضی سیاست کریں یہ ان کا حق ہے۔ اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ فوج کو اپنے سیاسی بیانیے کا حصہ نہ بنایا جائے۔ جو لوگ بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر سوال اٹھاتے ہیں ان کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ان افراد کے ذاتی مقاصد ہیں۔ ایسے افراد کو کسی ایک سیاسی جماعت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
خیال رہے کہ ان دنوں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر کچھ تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ایک طرف سپریم کورٹ کے حکم پر بانی تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ ’فرینڈ آف کورٹ‘ کے بینر تلے ان کے وکیل سلمان صفدر کی ایک طویل ملاقات اڈیالہ جیل میں ہوئی جس کی مفصل رپورٹ کورٹ میں جمع کروائی گئی تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی اپنی کابینہ کے ہمراہ پشاور کے ہمراہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے جس میں فوجی حکام بھی شریک تھے۔
اسی طرح چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے ایسے بیانات بھی آئے ہیں جس سے یہ تاثر بھی ملا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لاہور میں دی گئی اس بریفنگ میں سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سب سے اہم بات ملک اور صوبوں میں گڈ گورننس کا ہونا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنی گورننس کو سیاست کا محور بنائیں تو پوری قوم یکجا ہو کر دہشت گردی کی اس لہر سے سے نبرد آزما ہو گی اور یہ جنگ ہر صورت میں پاکستان ہی جیتے گا کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن سرے سے ہے ہی نہیں۔ فوج نہ تو کسی ایک سیاسی جماعت کی ہے اور نہ کسی ایک نسل کی۔ یہ پاکستان کی فوج ہے۔ انڈیا کے خلاف جنگ میں جس طرح قوم تمام سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہوئی وہ قابل تحسین ہے ایسا ہی اتحاد دہشت گردی کے خلاف درکار ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’فوج زخموں کو مندمل کرنے (ہیلنگ) پر یقین رکھتی ہے نہ کہ لوگوں کو تقسیم کرنے پر۔‘