’کچھ بھی نہیں چلے گا‘، انڈیا میں ’بھارت بند‘ ہڑتال شروع ہو گئی
نڈیا میں ’بھارت بند‘ ہڑتال کا آغاز ہو گیا ہے جو کہ ٹریڈ یونینز اور کسانوں کی کال پر کی جا رہی ہے اور ملک کا بڑا حصہ بند رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
لیبر تنظیموں کا کہنا ہے کہ آج کچھ بھی نہیں چلے گا۔
انڈیا ڈاٹ کام کے مطابق ٹریڈ یونینز اور کسانوں کی تنظیمیوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مزدوروں کے بارے میں بنائے گئے نئے ضوابط اور انڈیا و امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق صبح کے وقت مختلف شہروں میں ہڑتال کے واضح آثار دکھائی دیے اور اہم مقامات بند ہیں۔
ٹریڈ یونینز کے جوائنٹ فورم نے بدھ کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
یونین کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال ملک کے چھ سو سے زائد اضلاع میں کی جائے گی اور کام کاج بند رہے گا۔
خیال رہے انڈیا کی جانب سے روسی تیل خریدنے کے معاملے پر امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں سخت تناؤ آٰیا تھا اور صدر ٹرمپ نے انڈیا کو روسی تیل کی خریداری نہ روکنے پر اضافی ٹیرف کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد 25 فیصد اضافی ٹیکس لگایا گیا تھا۔
تاہم اس کے بعد انڈین حکام کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی پر صدر ٹرمپ نے ٹیرف ختم کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر نے کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہلی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
جس پر انڈیا میں کسانوں اور ٹریڈ یونینز نے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ہڑتال میں سب کچھ بند کر دیا جائے گا جس کے بعد اسے ’بھارت بند‘ کا نام دیا گیا۔
ٹریڈ یونینز کے فورم میں 10 اہم تنظیمیں شامل ہیں۔
تجزیہ نگاروں کی جانب سے کل بتایا گیا تھا کہ اس ہڑتال سے فیکٹریاں، دکانیں اور نجی ادارے تو متاثر ہوں گے ہی، تاہم سرکاری معاملات پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے بھی بڑی تعداد میں لوگ کام کے مقام پر نہیں پہنچ سکیں گے جبکہ بینکوں کی سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس وقت تک کی اطلاعات کے مطابق بڑے شہروں میں بینکوں کی برانچز کھلی ہیں تاہم چھوٹے اور دور دراز کے علاقوں میں بینک بھی بند ہیں۔
ملکی سطح پر ہونے والی اس ہڑتال کے حوالے سے انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سے نظم و نسق پر بڑا اثر پڑنے کا امکان ہے کیونکہ پبلک سیکٹر میں 30 کروڑ سے زائد افراد کام کرتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کے بارے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ اس ہڑتال میں حصہ لیں گے۔
ٹریڈ یونینز فورم کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حوالے سے بنائے گئے نئے قوانین و ضوابط میں مزدوروں کے حقوق غصب کرتے ہوئے کاروباری سیکٹر کو فائدہ دیا گیا ہے۔
اس ہڑتال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں لیبر کارکنوں کو کسان تنظیموں کے علاوہ طلبہ گروپس کی حمایت بھی حاصل ہے۔