پستے صرف دیکھنے میں خوبصورت نہیں ہوتے بلکہ ان کا ذائقہ بھی بہترین ہوتا ہے۔
سبز رنگ کی اس گری کا ذائقہ ہلکا میٹھا ہوتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ ہزاروں سال سے انسان اسے کھا رہے ہیں۔
اب دریافت ہوا ہے کہ اسے کھانے سے رات کو اچھی نیند کے حصول میں مدد ملتی ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ دیکھا گیا تھا کہ پستے کھانے سے نیند پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ مزیدار گری ٹرپٹوفان، فائٹومیلاٹونین اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میگنیشم اور وٹامن بی 6 جیسے اجزا بھی ہوتے ہیں جو ٹرپٹوفان کو سیروٹونین اور میلاٹونین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بیشتر افراد میلاٹونین سپلیمنٹس کو اچھی نیند کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ دیکھا گیا تھا کہ پستے کھانے سے نیند پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ مزیدار گری ٹرپٹوفان، فائٹومیلاٹونین اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میگنیشم اور وٹامن بی 6 جیسے اجزا بھی ہوتے ہیں جو ٹرپٹوفان کو سیروٹونین اور میلاٹونین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بیشتر افراد میلاٹونین سپلیمنٹس کو اچھی نیند کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس گری میں متعدد اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو جسم کے مختلف حصوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
پستے کی 28 گرام مقدار کھانے سے جسم کو 159 کیلوریز، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 3 گرام فائبر، 6 گرام پروٹین، 13 گرام چکنائی، پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 6، کاپر، وٹامن بی 1 اور Manganese جیسے اجزا ملتے ہیں۔
اس گری کی خاص بات وٹامن بی 6 ہے جو متعدد جسمانی افعال بشمول بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔