بلو چستان

گورنر راج اور ایمرجنسی کمزور جمہوریت کےخلاف سنگین سازش ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع

جمعیت علماءاسلام صوبہ بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حکومتی اقدامات پر صوبائی جماعت کا دوٹوک مو¿قف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے سینے میں خنجر گھونپنے والے ہی جب جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار بننے کا دعویٰ کریں تو اس سے بڑا سیاسی تضاد اور المیہ کیا ہوگا۔ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے بعد اب اعلانیہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی کا فیصلہ کمزور ہوتی جمہوریت پر ایک اور کاری ضرب لگانے اور عوام کے حقِ حکمرانی کو سلب کرنے کی خطرناک سازش ہیں۔ جمہوریت کو اس کے نام نہاد عالمبرداروں سے بچانے کی ضرورت ہے، کیونکہ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے والے کسی صورت عوام کے غیض و غضب اور تاریخ کے بے لاگ احتساب سے نہیں بچ سکیں گے۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں حکومتی رٹ کی صورتِ حال کسی سے پوشیدہ نہیں؛ صوبائی حکومت کی عمل داری اور امن و امان کے دعوو¿ں پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں، یہاں تک کہ وزرائ کے لیے بھی بلاخوف و خطر سفر کرنا مشکل ہو چکا ہے، لیکن جب سیاسی بیانیہ ان حلقوں کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو تو ہر طرف سب اچھا کی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف حکومتی دعوو¿ں کی قلعی کھولتا ہے بلکہ جمہوری اصولوں اور عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین مذاق بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر جمعیت علماءاسلام اپنی مرکزی جماعت کی ہدایات اور فیصلے اور اہندہ کے لائحہ عمل کے منتظر ہے، ہمارا اصولی مو¿قف بالکل واضح ہے کہ کسی بھی صوبے کے عوام کے منتخب نمائندوں کو غیر آئینی، غیر جمہوری یا ماورائے مینڈیٹ اقدامات کے ذریعے اقتدار سے محروم کرنا ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان آج بھی گورنر راج کے تلخ اور تباہ کن اثرات بھگت رہا ہے۔ جب عوامی نمائندگی کے مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا، جب صوبے کے سیاسی اختیار کو محدود کیا گیا اور جب عوامی فیصلے کی جگہ غیر منتخب قوتوں کی مداخلت نے لی، تو اس کے اثرات نے صوبے کی ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی حقوق کے سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوری تسلسل کو توڑنے، منتخب حکومتوں کو کمزور کرنے اور عوامی مینڈیٹ کو بے توقیر کرنے کے نتائج کبھی خوش آئند نہیں ہوتے۔ جمعیت علماءاسلام کمزور، ناتواں یا نامکمل سہی، مگر عوام کے ووٹ سے قائم ہونے والی حکومت کو ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدامات پر ترجیح دیتی ہے، کیونکہ جمہوری نظام کی اصلاح کا راستہ آئین، پارلیمان اور عوامی نمائندگی سے گزرتا ہے، نہ کہ طاقت کے یک طرفہ استعمال سے۔ اگر عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی تو جمعیت علماءاسلام اس کے دفاع کے لیے سیاسی، جمہوری اور آئینی محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔فروری 2024 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے، انتخابی عمل کو متنازع بنانے اور جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عناصر آج ایک بار پھر ایمرجنسی اور گورنر راج مسلط کرکے آئین، جمہوری اقدار اور عوامی حقِ حکمرانی کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ جو کردار کل عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال کر جمہوریت کے قاتل بنے، وہ آج ایمرجنسی اور گورنر راج کے ذریعے جمہوریت کا جنازہ نکالنے کے درپے ہیں۔ انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آئین شکنی، عوامی مینڈیٹ کی پامالی اور طاقت کے بل بوتے پر سیاسی مخالفین کو کچلنے کی روش بالآخر خود انہی کے سیاسی زوال، رسوائی اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنے گی۔ تاریخ کا فیصلہ واضح ہے کہ وقت آنے پر ہہی ہتھکنڈے ان کے اپنے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتے ہیں۔ جمہوریت کوئی جاگیر نہیں کہ جب چاہا عوامی مینڈیٹ کو روند ڈالا اور جب چاہا اقتدار بچانے کے لیے آئین کو موم کی ناک بنا لیا؛ ایسے اقدامات ریاستی استحکام کو دیمک کی طرح چاٹتے اور اپنے معماروں کے لیے سیاسی تباہی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔صوبائی امیر نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کا طرزِ عمل سیاسی عدم اعتماد، غیر یقینی صورتِ حال اور وعدوں سے انحراف کی ایسی فضا پیدا کر رہا ہے جو کسی بھی مستحکم جمہوری معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب معاملات طے پا جانے کے بعد اپنے ہی مو¿قف سے انحراف کیا جائے، جب سیاسی یقین دہانیوں کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور جب اصولوں کی جگہ وقتی مفادات کو ترجیح دی جائے تو اس سے نہ صرف سیاسی قیادت کی ساکھ مجروح ہوتی ہے بلکہ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی کمزور پڑتا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *