جمعیت علماءاسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی اور حاجی نعمت اللہ اچکزئی نے کہا ہے کہ سمنگلی ایئر بیس کے قریب معصوم بچے کی بہیمانہ شہادت ظلم و بربریت کی انتہا اور انسانی اقدار کی کھلی پامالی ہے۔ یہ المناک واقعہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ بے گناہ عوام مسلسل بدامنی تشدد اور عدم تحفظ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب دہشت گردی کے واقعات میں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں جبکہ دوسری جانب بعض واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں کے طرزِ عمل سے متعلق عوامی تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ سمنگلی ایئر بیس کے آس پاس کے انتہائی حساس علاقے میں جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور ہائی الرٹ کی کیفیت برقرار رہتی ہے ایک معصوم طالبعلم کا دن دیہاڑے شہید ہونا سیکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے متعدد سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ اور امن فراہم کرنا ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو مسلسل خوف، تشدد اور عدم تحفظ کے حوالے کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ رہنماو¿ں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار عوام کے محافظ ہیں انہیں خوف اور دہشت کی علامت بننے کے بجائے شہریوں کے ساتھ احترام تحمل اور نرم رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اہلکاروں کو تفویض کیے گئے اختیارات اور ان کے ہاتھ میں دیے گئے اسلحے کا مقصد شہریوں کو خوف زدہ کرنا یا ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ہرگز نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں غفلت یا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
بلو چستان
بے گناہ عوام مسلسل بدامنی تشدد اور عدم تحفظ کی چکی میں پس رہے ہیں، مولانا عبدالرحمن رفیق