بلو چستان

جمعیت علماءاسلام کسی مصلحت یا وقتی سیاسی مفاد کی خاطر اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوگی، سینیٹر مولانا عبدالواسع

جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ جمعیت علماءاسلام کسی مصلحت یا وقتی سیاسی مفاد کی خاطر اپنے اصولی مو¿قف سے دستبردار نہیں ہوگی، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے واضح اور دوٹوک مو¿قف اختیار کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر قائم کیا گیا موجودہ سیاسی سیٹ اَپ جمہوریت کے لیے بدنما داغ اور عوام کے حقِ حکمرانی کی توہین ہے، جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا؛ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کا واحد راستہ شفاف، آزاد، غیرجانبدار اور حقیقی عوامی رائے پر مبنی انتخابات کا انعقاد اور اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے سپرد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت، دھونس، اثر و رسوخ اور پیسے کے ذریعے عوام کی حقیقی رائے کو بے اثر اور ایوانوں کو یرغمال بنانا جمہوری نظام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، اگر عوامی مینڈیٹ کی پامالی اور جمہوری اصولوں کی بے توقیری کا سلسلہ جاری رہا تو جمعیت علماءاسلام اپنے آئینی و جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور عوامی جدوجہد کا راستہ اختیار کرے گی، اور جب عوام اپنی حقیقی طاقت کے ساتھ میدان میں نکلیں گے تو مصنوعی سیاسی بندوبست اور غیر فطری اقتدار کے ایوان لرز اٹھیں گے۔ مولانا عبدالواسع اور مولانا آغا محمود شاہ نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام کو سیاسی طور پر دیوار سے لگانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ ہماری جدوجہد محض اقتدار کے حصول کی جنگ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت، عوام کے حقِ حکمرانی، اسلامی اقدار اور قومی خودمختاری کے تحفظ کی جدوجہد ہے؛ ملک کو کسی بیرونی ایجنڈے یا غیر جمہوری مداخلت کے تابع بنانے اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی، جمعیت علماءاسلام تصادم نہیں بلکہ آئینی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، تاہم عوامی مینڈیٹ کی توہین اور جمہوری حقوق کی پامالی پر خاموش نہیں رہے گی اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *