صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی سے پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن کے ایک وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں بلوچستان بھر کے کان کنوں کو درپیش مسائل، تحفظات اور مختلف مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے مائنز لیبرز کو درپیش مشکلات، فلاح و بہبود، طبی سہولیات، حفاظتی اقدامات اور دیگر بنیادی مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے یقین دہانی کرائی کہ کان کنوں کے تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مائنز ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات نے کچی اور دیگر اضلاع میں قائم مائنز ہسپتالوں میں طبی عملے کی ڈیوٹی سے غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مائنز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ تمام مائنز ہسپتالوں کو فعال رکھا جائے۔ ہسپتالوں اور طبی عملے کی روزانہ حاضری کی رپورٹ باقاعدگی سے صوبائی وزیر کے دفتر کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔انہوں نے تمام ایمبولینس گاڑیوں کو ہر وقت مائنز سائٹس کے قریب فعال اور موجود رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال میں زخمی کان کنوں کو فوری طبی امداد اور بروقت ریسکیو کی سہولت فراہم کی جا سکے۔میر شعیب نوشیروانی نے واضح کیا کہ مائنز لیبرز کی فلاح و بہبود، صحت اور حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ان اقدامات کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ملاقات میں مائنز ویلفیئر فنڈ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ محکمہ خزانہ کے ساتھ باہمی مشاورت سے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گرانٹ اور فنڈز کے اجرا سے متعلق جامع سمری تیار کرکے منظوری کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کسی بھی ناگہانی حادثے یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مائنز ریسکیو نظام کو مزید مو¿ثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کانوں میں پھنسے یا زخمی کان کنوں کو محفوظ اور فوری طور پر نکالنے کے لیے مزید ماہر اور جدید تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیے جائیں گے صوبائی وزیر نے کہا کہ ریسکیو عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے انہیں ملک کے اعلیٰ اور معیاری تربیتی اداروں میں سائنسی اور جدید خطوط پر اعلیٰ سطح کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ مائنز حادثات کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کو بروقت بچایا جا سکے۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کان کنوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور مائنز سیکٹر میں حفاظتی و فلاحی اقدامات کو مزید مو¿ثر بنایا جائے گا۔
بلو چستان
کان کنوں کے تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائےگا، میر شعیب نوشیروانی