جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر حق دو تحریک کے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بد امنی، دہشت گردی، بے روزگاری، بارڈرکی بندش اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں ڈاکہ زنی کے خلاف 29 اگست کی سہ پہر 3 بجے گورنر ہاو¿س کوئٹہ کے سامنے دھرنا دیں گے جو جماعت کے مرکزی امیر کے اعلان کے بعد ختم کیا جائے گا اگر حکومت نے ہمارے پرامن جمہوری احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ہم اسی مقام پر لائحہ عمل طے کریں گے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی اس موقع پر صوبائی سینئر نائب صدر زاہد اختر بلوچ، صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ، ضلع کوئٹہ کے امیر عبدالنعیم رند، عبدالولی شاکر، نور الدین غلزئی، عارف دمڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمران فرعون بنکر اپنی ذہنیت کو دوام دیتے ہوئے بلوچستان کے لوگوں کو بندوق کے ذریعے کچل کر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں اس طرح ملک کو بچا کر عوام کے دلوں کو جیتا نہیں جاسکتا ہمارے سامنے دنیا کی سپر طاقتوں کا بندوق اور طاقت کے بل بوتے پر لوگوں اور علاقوں کو فتح کرنے کا تجربہ روز روشن کی طرح عیاں ہے جدید ٹیکنالوجی، ایٹم بم اور جدید تباہی کے ہتھیاروں سے بلوچستان کو فتح اور لوگوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا نہیں کی جاسکتی کیونکہ حکمران تکبر، غرور اور گھمنڈ میں برسر پیکار رہ کر ہر چیز کو زور زبردستی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایس ایچ او کی مار کہنے والے خود لاپتہ ہوچکے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیں انسان نہیں سمجھتے نہ ہی ہماری عزت کرتے ہیں ہمارے لوگوں کو روزگار دینے کی بجائے ان کی لاشیں دے رہے ہیں۔ طاقتور حکمران اصل مسائل کے حل کی بجائے زور زبردستی چلانا چاہتے ہیں اس طرح طاقتور حکمران جمہوریت اور کابینہ کے توسط سے فیصلے کون کرسکتا ہے جھنڈے کے اندر ڈنڈے کے تلے سب ایک اور نیک ہیں لیکن ظالمانہ کارروائیوں سے حالات مزید بگڑھتے جارہے ہیں قومی شاہراہوں پر ہماری ماو¿ں بہنوں کی تلاشی کے نام پر سروں سے چادر اور دوپٹہ اتارا جارہا ہے جس کے خلاف ہر فورم پر بات کروں گا اس کے بدلے میرے خلاف جتنے مرضی مقدمات درج کرلئے جائیں۔ گزشتہ ڈھائی سالوں میں میرے خلاف تین مقدمات درج کئے جاچکے ہیں جن میں سے دو پارلیمنٹ میں خطاب کرنے پر گوادر اور قلعہ عبداللہ میں جبکہ گزشتہ دنوں دورے کے دوران قومی شاہراہ پر اپنی ماو¿ں، بہنوں کے حق میں بات کرنے پر درج کیاگیا ہے میں مقدمات سے گھبرانے والا نہیں یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے حکمران اپنی شاہ خرچیاں پوری کرنے کے لئے عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے مراعات یافتہ طبقے پر بوجھ ڈالے عوام کی تذلیل بندکی جائے کیونکہ اس طرح کی دہشت گردانہ حرکتیں کرکے لوگوں میں نفرتوں کو مزید پروان چڑھایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پاکستان کے دیگرشہروں، کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آبادمیں پیٹرولیم لیوی، بے روزگاری، بد امنی، دہشت گردی کے خلاف دھرنے جاری ہیں اور ہم نے 22 اگست کو کوئٹہ کی 23 شاہراہوں کو بلاک کرکے احتجاج کیا تھا اور اسی کو وسعت دیتے ہوئے 29 اگست ہفتہ کی سہ پہر 3 بجے گورنر ہاو¿س کے سامنے دھرنا دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے رکن صوبائی اسمبلی بھی دھرنے میں شریک ہوں گے جو پر امن اور جمہوری طور پر ہوگا۔ جس میں لوگوں کی کثیر تعداد شامل ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران میرے خلاف تین ایف آئی آر درج کی گئی ان سے میں گھبرانے والا نہیں میرے لئے گولڈ میڈل، ستارہ امتیاز اور تمغہ جرات ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت اتحادوں میں شامل رہی جس طرح اسلامی جمہوری اتحاد، متحدہ مجلس عمل اور پی ڈی ایم میں شامل رہی اور ساتھیوں نے وزارتیں قبول کرکے ہمارے موقف سے دور کرنے کی کوشش کی کیونکہ یہ اقتدار اور خدمت کی جنگ ہے ہم خدمت گزار ہیں اور وہ برسر اقتدار ہیں۔ اسمائ جتک کے والد اور ماموں کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے پوچھے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں نے اسمبلی فلور پر بات کی تھی اور اسپیکر اسمبلی نے رولنگ دی ہے 31 اگست کو منعقدہ اجلاس میں سپیکر اسمبلی سے جواب لوں گاکہ قاتلوں کو گرفتار کرکے ڈی آئی جیز اور متعلقہ حکام کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے۔
بلو چستان
طاقتور حکمران اصل مسائل کے حل کی بجائے زور زبردستی چلانا چاہتے ہیں، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ