بلو چستان

بچے کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ اور ہمارا مستقبل ہیں، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بچے کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ اور ہمارا مستقبل ہیں، ان کی بہترین نشوونما اور صحت مند زندگی کی فراہمی وہ بنیاد ہے جس پر ہمارے صوبے کی بقا کا انحصار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (بلوچستان چیپٹر) کی صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ ترین سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں بلوچستان میں بچوں کی صحت کی مجموعی صورتحال، طبی سہولیات کی بہتری، قانون سازی اور اس ضمن میں مشترکہ کوششوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے صوبے میں بچوں کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کا گراف دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں تقریباً 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث ‘اسٹنٹنگ’ (جسمانی و ذہنی نشوونما میں کمی) کا شکار ہیں، جو براہ راست ہماری آنے والی نسل کی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے۔۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہ صرف طبی مداخلت بلکہ سماجی آگاہی اور مضبوط قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ زچگی کے دوران اور پیدائش کے بعد بچوں کو بہترین طبی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ حکومت بلوچستان بچوں کے حقوق اور ان کی صحت کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین میں ترامیم اور نئی قانون سازی کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کی کوریج کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا اور ماں کے دودھ کی اہمیت (Breastfeeding promotion) سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے پی پی اے (PPA) کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ تنظیموں کا تعاون پالیسی سازی میںانتہائی اہمیت رکھتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ماہرینِ اطفال کی تجاویز کو حکومتی اقدامات کا حصہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ محکمہ ترقی نسواں خواتین کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی صحت کے لیے بھی متحرک ہے، کیونکہ خواتین کی بااختیاری کا ایک اہم پہلو خواتین اور ان کے بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات تک آسان رسائی ہے۔ دونوں رہنما¶ں نے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا جو مستقبل کی حکمت عملی اور قانون سازی کے عمل میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *