چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دباو¿ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس جنگی صورتحال کے اثرات تیزی سے دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کے عدم استحکام نے اقتصادی بحران کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر فضائی صنعت اس بحران کا سب سے بڑا شکار بن کر سامنے آئی ہے۔ امریکی اور برطانوی ایئرلائنز کو سکیورٹی خدشات، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور فضائی حدود کی بندش کے باعث اپنی پروازیں معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو چکے ہیں، جس سے ان ممالک کے اندرونی معاشی ڈھانچے پر بھی دباو¿ بڑھ گیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی معیشتیں بھی جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ اگر دنیا کی مضبوط ایئرلائنز اس بحران کا سامنا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں تو ترقی پذیر اور غریب ممالک کی ایئرلائنز اور دیگر اداروں کے لیے حالات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ انکے پاس نہ تو مالی وسائل ہیں اور نہ ہی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت، جسکے باعث عالمی فضائی رابطے مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ سیاحت، تجارت اور ترسیلاتِ زر جیسے شعبے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ جنگ عالمی معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے، جسکے اثرات مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی سست روی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ امریکہ فوری طور پر اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید گہرا ہو کر دنیا بھر کے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
بلو چستانپاکستان
امریکہ ایران کشیدگی نے عالمی معیشت کو شدید دباو¿ میں مبتلا کر دیا ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر