بولان ریسرچ اکیڈمی کی افتتاحی تقریب پریس کلب کوئٹہ میں منعقد ہوئی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی و امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ بطورمہمان خصوصی جبکہ سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخونزادہ، ایڈیشنل ڈپٹی سیکرٹری محمد فاروق کاکڑ،ممتازاسکالرنائب امیرجماعت اسلامی بلوچستان ڈاکٹر عطاالرحمان، الحمدیونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن،بازمحمدشہیدلائبریری کے چیرمین، ممتازمعالج ڈاکٹرلعل محمد کاکڑ،پروفیسر سلطان محمد کاکڑ،مولانامحمد ہاشم کاکڑسمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات وخواتین نے شرکت کی۔تقریب کا مقصد بلوچستان میں علمی، تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور صوبے کی تاریخ،سماجی حالات، علاقائی مسائل اور دیگر اہم موضوعات پر تحقیق کے لیے ایک مو¿ثر پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر تحقیق، علمی مکالمے اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ? خیال ومشاورت کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ علمی و تحقیق کے حوالے مختلف جامعات کیساتھ ملکرکام کریں گے۔بلوچستان میں دہائیوں سے جاری غلط رسومات ختم کرنے کی ضرورت ہے ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ریسرچ وکام کریں علم و تحقیق کی راہ ہموار کریں لائبریری بلخصوص ڈیجیٹل لائبریریوں کوآبادکریں گے۔علم و تحقیق کے سفرمیں بہتری جدت ووسعت لائیں گے۔بولان اکیڈمی انشاءاللہ علم وریسرچ کے سفرکوتیزاورعلمی حلقوں کردرمیان رابطوں میں بہتری ووسعت لائیگی۔تقریب میں الخدمت فاو¿نڈیشن کی فلاحی و سماجی خدمات کا بھی ذکر کیا گیا۔ صحافتی برادری کی جانب سے پی جے اے کے صدر شاہد علی مگسی اور سینئر میڈیا کوآرڈینیٹر رانا عبدالروف بھی نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔بولان ریسرچ اکیڈمی کا قیام بلوچستان میں علم و ادب، تحقیق اور فکری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہےجس سے علمی و تحقیقی میدان میں نئی راہیں کھلنے اور صوبے کے تاریخی و سماجی موضوعات کو اجاگر کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے
بلو چستان
بولان ریسرچ اکیڈمی کا قیام علمی،تحقیقی اور فکری سرگرمیوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے، مولانا ہدایت الرحمن