برطانیہ اور اسرائیل نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں تقریباً 200 سال پرانا برطانوی سفارت خانہ محدود پیمانے پر کام کرتا رہے گا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ ایک سمجھوتے کے بعد کیا گیا ہے جو اسرائیل کی جانب سے پابندیوں کے تنازع پر مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کے حکم کے بعد طے پایا۔
اس آخری لمحات میں ہونے والے معاہدے کے تحت 1839 میں قائم ہونے والے اس قونصل خانے کا نام تبدیل کر کے اب ’یو کے مشن‘ رکھ دیا جائے گا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ برطانوی قونصل جنرل سمیت 20 برطانوی سفارت کار واپس چلے جائیں گے جس کے بعد صرف 7 سفارت کار اس مشن میں محدود کردار کے تحت کام کریں گے۔
دوسری جانب برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنے کچھ سفارت کاروں کو ’عارضی طور پر‘ واپس بلایا ہے اور وہ آنے والے وقت میں اپنی موجودگی دوبارہ بحال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ ماہ مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ یہ ڈیڈ لائن برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد دی گئی تھی۔ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ فلسطینی اتھارٹی میں برطانیہ کی نمائندگی کرتا تھا۔

برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اسرائیل کو قونصل خانہ بند کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل ہے۔ یہ قونصل خانہ شہر کے اس حصے میں واقع ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور بعد ازاں اسے اپنے ساتھ ملا لیا تھا جسے زیادہ تر ممالک تسلیم نہیں کرتے۔
ایڈ ملی بینڈ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بعد ہماری قونصل جنرل کی عمارت بند نہیں ہو گی اور آج سے اسے ‘یو کے مشن، یروشلم’ کے نام سے جانا جائے گا۔ یہ مشن اہم خدمات اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گا۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کی صبح قونصل خانے پر سے ’برٹش قونصلیٹ جنرل‘ کی تختی اور قونصلر سیکشن کا ایک اور بورڈ ہٹا دیا، تاہم عمارت پر برطانوی پرچم بدستور لہرا رہا تھا۔