گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر، عوامی فلاح و بہبود اور دورافتادہ علاقوں کی ترقی کیلئے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سمیت تمام بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے گئے ہیں جن کے مثبت اثرات تعلیم، صحت، زراعت اور صاف پانی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں سامنے آرہے ہیں۔ بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ اضلاع میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی خاطر بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) بلوچستان سب آفس کے سربراہ ولید مہدی کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران مراد خان میاخیل، ناصر جمال جوگیزئی اور محمد صادق آغا بھی موجود تھے۔ ملاقات میں صوبے میں زرعی ترقی، لائیو اسٹاک، باغبانی، خوراک کے تحفظ، کسانوں کی تربیت، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور دورافتادہ اضلاع میں ترقیاتی پروگراموں کے فروغ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت میں زراعت، باغات اور لائیو اسٹاک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج، آبپاشی کے موثر نظام، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ طریقہ ہائے کاشت اور کسانوں کی جدید تربیت کے ذریعے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت، باغات اور لائیو اسٹاک کو جدید خطوط پر استوار کرکے نہ صرف صوبے کو خوراک کے شعبے میں خودکفیل بنایا جاسکتا ہے بلکہ ہزاروں افراد کیلئے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے کسانوں کو جدید ریسرچ، ڈیجٹل ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ گورنر جعفرخان نے کہا کہ صوبے کے چھوٹے کاشتکاروں، زمینداروں، مالداروں، خواتین اور نوجوانوں کو بھی ترقیاتی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے تاکہ دیہی معیشت مضبوط ہو اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کی بارشوں اور پانی کی کمی کے تناظر میں کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں، جدید آبپاشی اور ماحول دوست زرعی طریقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایف اے او بلوچستان کے سربراہ ولید مہدی نے گورنر بلوچستان کو زرعی یونیورسٹی بلوچستان کے زیر اہتمام 19 اضلاع کے زمینداروں اور کسانوں کیلئے منعقد کیے جانے والے پروگرام میں بطور چیف گیسٹ شرکت کی دعوت دی۔ پروگرام کا مقصد عوام کی صحت عامہ، کسانوں اور زمینداروں کو جدید زرعی طریقوں، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو صرف پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مکمل ویلیو چین، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور مارکیٹنگ سے منسلک کرنا ہوگا تاکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کا بہتر معاوضہ مل سکے اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔
بلو چستان
بلوچستان کی معیشت میں زراعت، باغات اور لائیو اسٹاک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے،گورنر بلوچستان