چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے عالمی بحری دن کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ چمن، اسپین بولدک سرحدی علاقے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی نے پاکستان کی مغربی سرحدی سلامتی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں. پاکستان کیلئے یہ معاملہ محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ قومی سلامتی، داخلی استحکام اور علاقائی امن سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغانستان سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کی کاروائیاں جاری رہیں اور افغانستان نے مو¿ثر اقدامات نہ کیے تو پاکستان کیلئے قومی سلامتی کے تحفظ کے اقدامات مزید سخت کرنا ناگزیر ہوگا۔انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور تزویراتی روابط پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔ افغان سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت اور افغانستان کے براہ راست ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان متعدد بار یہ شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کر چکا ہے. چمن اہم تجارتی اور آمدورفتی راستہ ہے۔ افغانستان اس سرحدی راستے سے ہونے والی تجارت پر انحصار کرتا ہے. اگر افغانستان نے اپنی روش ترک نہ کی تو پاکستان یہ سرحدی راستہ بند کرنے پر مجبور ہو جائے گا.چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ افغانستان کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی یا سرحدی حملوں کو غیر معینہ مدت تک برداشت نہیں کر سکتا۔ افغانستان نے اپنی پالیسی پر نظرثانی نہ کی اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کو روکنے کیلئے مو¿ثر اقدامات نہ کیے تو اسکے دوطرفہ تعلقات، تجارت اور علاقائی تعاون پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ صورتحال کا پائیدار حل جنگ کے پھیلاو¿ میں نہیں بلکہ سرحدی نظم و ضبط، مو¿ثر انسدادِ دہشت گردی تعاون اور ذمہ دارانہ سفارت کاری میں ہے۔
بلو چستان
افغانستان نے بھارتی ایما پر اپنی پاکستان مخالف روش نہ بدلی تو اسے اسکی قیمت چکانا پڑےگی،سینیٹر محمد عبدالقادر