اسے روبوٹ اولمپکس بھی کہا جاتا ہے مگر انسانی اولمپکس کے برعکس اس میں صرف روبوٹس ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں اور چین لگ بھگ تمام میڈل جیت لیتا ہے۔
چین میں اس طرح کے روبوٹ مقابلے کافی عرصے سے ہو رہے ہیں جن کا مقصد نہ صرف روبوٹیکس کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت کی جھلک فراہم کرنا ہوتا ہے بلکہ اس شعبے کی اہمیت بھی ظاہر کرنا ہے۔
چین میں روبوٹ مقابلوں کا آغاز یونیورسٹی کے طالبعلموں کی جانب سے کیا گیا مگر اب ان کا انعقاد قومی سطح پر کیا جاتا ہے۔
22 اگست کو بیجنگ میں شروع ہونے والے دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز 5 دن تک جاری رہیں گے۔
ہ اس طرح کا اب تک کا سب سے بڑا ایونٹ ہے، مگر ان مقابلوں کی تاریخ کافی دلچسپ ہے۔
1994 سے 2014 کے دوران روبوٹیکس مقابلوں کو کالج گیمز قرار دیا جاتا تھا اور ایسا Fujian کی مقامی حکومت کی معاونت سے ہوا۔
یہ بہت کم بجٹ والا پروگرام تھا اور اس میں زیادہ تر یونیورسٹی کے طالبعلم شریک ہوتے تھے۔
2015 میں پہلی ورلڈ روبوٹ کانفرنس کا انعقاد ہوا اور ملکی سطح پر چین کی جانب سے روبوٹیکس کی صنعت کو ترجیح دی جانے لگی۔
2015 کی کانفرنس کے موقع پر موبائل روبوٹس کی جانب سے بیڈمنٹن کا مظاہرہ کیا گیا مگر اسے کوئی خاص بڑی تکنیکی کامیابی قرار نہیں دیا گیا۔
یہ روبوٹس پرانی ٹیکنالوجی سے لیس تھے اور ان کی رفتار کافی سست تھی۔
مگر 2023 کی ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں کمپنیوں کی جانب سے نئی ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی اور دنیا کی توجہ حاصل کی۔
اس موقع پر چینی کمپنی شیاؤمی نے ایک روبوٹ ڈاگ ‘سائبر ڈاگ’ پیش کیا جس نے لوگوں کو دنگ کر دیا۔
2025 اور 2026 وہ برس ہیں جب چینی روبوٹس حقیقی معنوں میں دنیا کو دنگ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اپریل 2025 میں دنیا کی پہلی روبوٹ ہاف میراتھون کا انعقاد بیجنگ میں ہوا اور انسانی نما روبوٹس انسانوں کے ساتھ دوڑتے نظر آئے۔
اس موقع پر کچھ روبوٹس نے پورے فاصلے تک ریس کو مکمل کیا جس دوران کچھ روبوٹس گر بھی گئے جبکہ دیواروں سے ٹکرائے۔
مگر ایک سال بعد یعنی اپریل 2026 میں صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔
دوسری بیجنگ ہاف میراتھون کے دوران یونی ٹری کے ایچ 1 روبوٹ نے تیز رفتاری سے ریس کو کسی انسانی معاونت کے بغیر مکمل کیا۔
اس ریس میں 100 روبوٹ ٹیموں نے شرکت کی اور 47 ٹیموں نے اسے مکمل کیا۔
ان میں سب سے نمایاں کارکردگی ایک روبوٹ فلیش کی تھی جس نے ریس کو 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کرکے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔
یہ وقت محض ایک ماہ قبل ایک انسان کی جانب سے بنائے گئے ورلڈ ریکارڈ سے 7 منٹ کم تھا۔
اب دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے موقع پر چینی کمپنی کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ لائٹننگ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9 اعشاریہ 32 سیکنڈ میں طے کرکے انسانی عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔
روبوٹ کی کارکردگی نےدنیا کے تیز ترین انسان کا خطاب حاصل کرنے والے جمیکن ایتھلیٹ یوسین بولٹ کے 9 اعشاریہ 58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔