سائنس اور ٹیکنالوجی

امریکی حکومت نے ٹیکنالوجی جائنٹ مائیکرو سافٹ کو ایچ ون بی ویزہ پروگرام سے معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا

امریکی حکومت نے ٹیکنالوجی جائنٹ مائیکرو سافٹ کو ایچ ون بی ویزہ پروگرام سے معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوبی اور کئی دیگر آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے امریکا میں مستقل رہائش کے لیے غیر ملکی ورکرز کو ملازمت دینے کی اہلیت معطل کر دی ہے۔ 

ایک پریس کانفرنس کے دوران جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ امریکا میں بالخصوص امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمارا مائیکروسافٹ کے لیے پیغام ہے کہ آپ ایک عظیم امریکی کمپنی ہیں، لیکن آپ کو عظیم امریکی ورکرز کو ملازمت دینی چاہیے۔ آپ امریکی ورکرز کو نوکری سے نکال کر ان کی جگہ غیر ملکی ملازمین کو نہیں رکھ سکتے۔

امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام چلنے والا ‘پرماننٹ لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام’ کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ امریکا میں مستقل طور پر رہنے کے لیے غیر ملکی ورکرز کی خدمات حاصل کریں۔ عام طور پر یہ امپلائر اسپانسرڈ  گرین کارڈ کے حصول کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ 

یہ پروگرام ایچ ون بی ویزوں سے الگ ہے جو ورکرز کو عارضی طور پر امریکا میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایچ ون بی ویزے بنیادی طور پر مخصوص شعبوں میں انتہائی ہنر مند ورکرز کو دیے جاتے ہیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس پروگرام کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔

جے ڈی وینس نے خاص طور پر مائیکروسافٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس نے گزشتہ سال6 ہزار ورکرز کو ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ اسی دوران کمپنی نے 6 ہزار 300 ایچ ون بی ویزوں اور تقریباً 3 ہزار گرین کارڈز سے فائدہ اٹھایا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ حساب لگائیں تو مائیکروسافٹ نے نکالے گئے ہر ایک ورکر کی جگہ ڈیڑھ غیر ملکی ملازم رکھ لیا جو کہ ایک ایسا شرمناک نظام ہے جسے ہم نے اس ملک میں بہت طویل عرصے تک چلنے کی اجازت دی۔ 

اس پروگرام سے ایڈوبی اور آئی ٹی آؤٹ سورسنگ فرمز کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز ، وپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمینی کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس پیش رفت کے باوجود صدر ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا کو ‘نیشنل میڈل آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن’ کے اعزاز سے نوازیں گے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *