واقعات کی ترتیب میں چُھپی خبر! اجمل جامی کا کالم

 واقعات کی ترتیب میں چُھپی خبر! اجمل جامی کا کالم

کیا یہ سب محض ایک حسین اتفاق ہے؟ کسی سنجیدہ گیم پلان کا حصہ ہے؟ معاملہ فہمی کا آغاز ہے یا سب نظر کا دھوکہ ہے؟ جو ہے جیسے ہے کی بنیا د پر یونہی سلسلہ چلتا رہے گا یا گنجائش پیدا ہو رہی ہے؟
بسنت کے بعد سیاسی ہواؤں کا رخ بدلا ہے یا کسی سنگلاخ اور بلند پہاڑ پر جمی تہہ در تہہ برف موسمیاتی تبدیلی کے کارن قدرے پگھل رہی ہے؟ فریقین اپنی اپنی پوزیشن سے وسیع تر ملکی مفاد میں ایک دو قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ ہدایت کاری کے گل کون کھلا رہا ہے؟ معاونین اور ہمنوا کیا بساط بچھا رہے ہیں؟ کسی شاعر نے فرمایا تھا کہ؛
اک سرا اُلجھی ہوئی ڈور کا ہاتھ آیا ہے
دوسرے تک بھی پہنچ جاوں گا سلجھاتے ہوئے
خبر بسا اوقات واقعات کی ترتیب میں چھپ کر اور کبھی کبھار کھلے عام ایک پتلے کی مانند ناچ رہی ہوتی ہے۔ معلومات اور نظر قدرے مشتاق ہو تو خبر کا یہ روپ مکمل قد کاٹھ اور رنگ و بو کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ان دنوں بھی ہو رہا ہے۔ واقعاتی ترتیب دیکھیے اور پھر نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈرز کی تقرری تھی کہ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو رہا تھا۔ پھر اچانک پروانے جاری ہوئے اور اچکزئی سمیت علامہ صاحب قائد حزب اختلاف مقرر ہوئے۔ یہاں لاہور میں چند ہفتے پہلے برپا ایک نشست کے دوران جب استاد سہیل وڑائچ اور خاکسار نے اچکزئی صاحب سے ان کے سیاسی روابط بالخصوص بڑے میاں کےساتھ براہ راست یا بالواسطہ تعلقات کار کی بابت استفسار کیا تو ان کا فرمان تھا کہ اگر ایسا کوئی ربط ہے بھی تو بھلا اس وقت آ پ سب کو کیوں بتلاؤں؟ یاد رہے کہ اس بیچ اڈیالہ کے مکین کی ملاقاتیں بند ہو چکی تھیں۔
نئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا تلخ لب و لہجے کے ساتھ کرسی پر براجمان ہوتے ہیں، بدلے میں مقتدرہ کی زبان و بیان میں بھی شدید برہمی دیکھی جاتی ہے۔ پھر اچانک وزیر اعلیٰ کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوتی ہے۔ اگلے روز مشیر خزانہ کی وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات ہوتی ہے، اس سے اگلے روز سپیکر کے پی کی سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ اس بیچ وزیر اعلیٰ کے ہاں کور کمانڈر کی موجودگی میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس برپا ہوتا ہے۔

awais1

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے