نوشکی میں ایک ہی خاندان کے چار نوجوان ہلاک: ’کیا خبر تھی کہ مزدوری کے لیے گھر سے دور جانے والے کفن میں لوٹیں گے‘
’غربت اور مجبوری کی وجہ سے ہم نے اپنے خاندان کے چار بچوں کو سینکڑوں میل دور مزدوری کے لیے بلوچستان بھیجا، لیکن وہاں پیش آنے والے حالیہ واقعات میں وہ سب اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔‘
سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے اوباڑو سے تعلق رکھنے والے رفیق احمد نے بتایا کہ بیک وقت چار نوجوانوں کی ناگہانی موت نے اُن کے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا، ایک ایسا صدمہ دیا جسے برداشت کرنا انتہائی مُشکل ہے۔
انھوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کے تین بھتیجے اور ایک کزن کا بیٹا شامل ہے۔
نوشکی میں سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ 31 جنوری سے شروع ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں میں نوشکی میں جو عام شہری مارے گئے ان میں سے پانچ کا تعلق سندھ سے تھا۔
نوشکی سمیت بلوچستان کے 12 شہروں کے مختلف مقامات پر 31 جنوری کو مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔