بلو چستان

پاکستان کو اس وقت انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے،محمود خان اچکزئی

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے، ایسے حالات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات نہ بامعنی ہو سکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ بحران کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 7 اکتوبر 1983ءکے شہدا جمہوریت اور 11اکتوبر 1991کے شہدا وطن کی برسی کے موقع پر باز محمد شہید گرا¶نڈ ژوب میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر مذاکرات میں دوسرا فریق اپنے قائدین اور دیگر لوگوں سے مشاورت کرتا ہے تو پی ٹی آئی اور اپوزیشن کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقات کرکے ان سے مشاورت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، میں کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنوں گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور میں اس اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا، تاہم مجھ میں یہ ہمت بھی ہونی چاہیے کہ جو صحیح ہے اسے صحیح اور جو غلط ہے اسے غلط کہہ سکوں۔ حکومت عمران خان سے ہماری ملاقات سے کیوں خوف زدہ ہے؟محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ خیبرپشتونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے سنگین سیاسی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ گورنر راج لگائیں، ہم عوامی راج کا اعلان کرکے ہر ضلع میں احتجاج کریں گے۔“انہوں نے کہا حالات ایسے بنائے کہ سہیل آفریدی کے پاس اب آگے بڑھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی، بعد ازاں انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا، ان کی جماعت سے انتخابی نشان بھی لے لیا گیا، لیکن اس کے باوجود عوام نے انہیں اپنا مینڈیٹ دیا۔ آخرکار زور اور زر کے ذریعے ان سے ان کا جیتا ہوا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔محمود خان اچکزئی نے سوال کیا کہ ”اس چوری کے مینڈیٹ کے نتیجے میں آنے والی حکومت کیسے جائز ہو سکتی ہے؟“انہوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں نے عمران خان کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اللہ کے فضل سے وہ اب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں توڑنے والوں کے خود ٹوٹنے کا عمل شروع ہو۔محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ کم از کم ایک قومی ایجنڈے پر متفق ہوں، تاکہ 25 کروڑ عوام کے خوشحال مستقبل کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل اور راستے کا تعین کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کے خلاف 7 اکتوبر 1983ءکو اس لیے نکلے تھے کہ انہوں نے مارشل لا ءنافذ کرکے عوام کا حقِ حکمرانی غصب کیا تھا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *