امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی کی صورتحال سرکاری رپورٹس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، شاہراہوں پر سفر تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، لوگ شہروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، زمینی سفر غیر محفوظ جبکہ ہوائی سفر انتہائی مہنگا ہونے کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ بلوچستان کے عوام کو امن، تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے سلگتے قومی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے احتجاجی دھرنوں اور عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن 8نومبر کوئٹہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے، جس میں بلوچستان کے عوام کے مسائل، بدامنی، شاہراہوں کی بندش، روزگار، وسائل کے تحفظ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے ذمہ داران کے ماہانہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر و پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی، صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ، نائب امرائ زاہد اختر بلوچ، مولانا عبدالکبیر شاکر، پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن، ڈاکٹر عطائ الرحمن، بشیر احمد ماندائی، پروفیسر مولانا محمد ایوب منصور، مولانا محمد عارف دمڑ، حافظ نور علی، صدر الخدمت فاو¿نڈیشن بلوچستان عبدالمجید سربازی، صدر کسان بورڈ بلوچستان لعل بخش کھوسہ، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹریز نورالدین غلزئی، مولانا مجیب الرحمن ساسولی، صابر صالح پانیزئی، پروفیسر سلطان محمد کاکڑ، امیر ضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند، ڈائریکٹر بنو قابل محمد طیب جدون، صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبدالولی خان شاکر، سوشل میڈیا انچارج روح اللہ سالار سمیت دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی و مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران نے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں جبکہ سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں 8نومبر کو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے دورہ کوئٹہ اور عوامی جلسے کی تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جلسے کو بھرپور اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث عوام شدید خوف و مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک طرف شاہراہوں پر سفر محفوظ نہیں، دوسری طرف روزگار، تجارت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو محض اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات اور محفوظ ماحول کی ضرورت ہے۔اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ غلط پالیسیوں، طاقت کے بے جا استعمال، زور زبردستی اور بدعنوانی کے باعث بلوچستان کے حالات مسلسل خراب ہورہے ہیں اور صوبہ عملاً نوگو ایریا بنتا جارہا ہے۔ حکومتی رٹ کمزور ہوچکی ہے جبکہ قومی بجٹ میں اربوں روپے رکھنے کے باوجود عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تمام سکیورٹی عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام پر مرکوز ہونی چاہیے، عوام کو خوف کے ماحول میں چھوڑ دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری، عملی اور مخلصانہ اقدامات کریں۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل کی حفاظت، قانونی تجارت کے فروغ، شاہراہوں کو محفوظ بنانے، عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور بدامنی کے خاتمے کے لیے واضح اور مو¿ثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور صوبے کے بنیادی و قومی مسائل کے حل، امن کے قیام، وسائل کے تحفظ اور عوام کے حقوق کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔ اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور مختلف شعبہ جات کی سرگرمیوں کے حوالے سے مشاورت کے بعد متعدد فیصلے بھی کیے گئے۔
بلو چستان
بلوچستان میں بدامنی رپورٹس سے کہیں زیادہ، شاہراہوں پر سفر ناممکن ہے، مولانا ہدایت الرحمن