آنتوں کا کینسر دنیا میں سرطان کی تیسری سب سے عام قسم ہے اور دنیا بھر میں اس کے کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
درحقیقت دنیا بھر میں جوان افراد (50 سال سے کم عمر) میں آنتوں کے کینسر کے کیسز کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دسمبر 2024 میں جرنل Lancet Oncology میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یورپ، شمالی افریقا، ایشیا اور اوشیانا سمیت دنیا بھر میں جوان افراد میں آنتوں کے کینسر عام ہو رہا ہے۔
محققین ابھی یہ مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے کہ آنتوں کا کینسر دنیا بھر میں تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے۔
مگر اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ مخصوص غذاؤں کا استعمال کینسر کی اس قسم سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔
جرنل فرنٹیئرز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ نباتاتی مرکبات فائٹو کیمیکلز پر مبنی غذاؤں کے استعمال سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔
اس تحقیق میں 980 افراد کو شامل کیا گیا جن میں سے 490 آنتوں کے کینسر سے متاثر تھے۔
ان افراد سے سوالنامے بھروا کر غذاؤں کے استعمال کی تفصیلات حاصل کی گئیں اور تخمینہ لگایا گیا کہ ان میں کتنی غذائیں فائٹو کیمیکلز سے بھرپور ہوتی ہیں۔
یہ نباتاتی مرکبات پولی فینولز، فلیونوئڈز، کیروٹین اور دیگر پر مشتمل ہوتے ہیں اور بیریز، سبز پتوں والی سبزیوں، بیجوں، دالوں، سالم اناج، گریوں اور چائے وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائٹو کیمیکلز سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے آنتوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ 52 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ سپر فوڈ ہے مگر یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان غذاؤں کا استعمال کینسر کی اس قسم کا خطرہ کم کرتا ہے۔
بیریز، سبز پتوں والی سبزیوں، بیجوں، چائے اور دیگر میں مختلف نباتاتی کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جبکہ وہ فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ متعدد اقسام کی نباتاتی غذاؤں کا استعمال کینسر کا خطرہ کم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔