بلو چستان

پاک امریکہ تجارت کو 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے،سینیٹر محمد عبدالقادر

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر سے زائد ہونا خوش آئند ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو آئندہ چند برسوں میں کم از کم 20 ارب ڈالر تک بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امریکہ پاکستانی برآمدات کے لیے سب سے بڑی انفرادی ملکی منڈی ہے اور پاکستان کو اس وسیع مارکیٹ سے مزید بھرپور استفادہ کرنا ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی امریکہ کو برآمدات 6.125 ارب ڈالر جبکہ امریکہ سے درآمدات 3.265 ارب ڈالر ہیں۔ موجودہ تجارتی تعلقات پاکستان کے لیے ایک بڑے اقتصادی موقع کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم برآمدات میں مطلوبہ رفتار سے اضافہ نہ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان اپنی تجارتی حکمت عملی کو مزید فعال، مو¿ثر اور برآمدات پر مبنی بنائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان امریکہ تجارتی مذاکرات کو صرف ٹیرف اور مارکیٹ ایکسس تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ انہیں طویل المدتی اقتصادی شراکت داری، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، سپلائی چین انضمام اور پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافے کے وسیع تر فریم ورک میں آگے بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روایتی ٹیکسٹائل برآمدات کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور آئی ٹی-enabled services، انجینئرنگ مصنوعات، آٹو پارٹس، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، فارماسیوٹیکلز، لیدر مصنوعات، فرنیچر، فوڈ پروسیسنگ اور زرعی و غذائی اجناس سمیت ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی خام اور کم ویلیو مصنوعات کے بجائے برانڈڈ، ڈیزائنڈ اور اعلیٰ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طرف منتقل ہونا ضروری ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ میں صرف مصنوعات فروخت کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ، سورسنگ، ٹیکنالوجی اور علاقائی سپلائی چینز کے لیے شراکت دار بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ امریکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستانی صنعت کی پیداواری صلاحیت، معیار اور عالمی مارکیٹ تک رسائی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے پاکستان کو اپنی صنعتی پیداواری لاگت کم کرنا ہوگی۔ مہنگی بجلی اور گیس، بلند لاجسٹکس لاگت، پیچیدہ ٹیکس نظام اور غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹیں پاکستانی صنعت کی عالمی مسابقت کو متاثر کر رہی ہیں۔ حکومت کو برآمدی صنعتوں کے لیے مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی توانائی نرخ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس، ٹیکس اور ریگولیٹری نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے جدید صنعتی زونز، بہتر انفراسٹرکچر، جدید لاجسٹکس، کولڈ چین، تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس، بروقت ٹیکس ریفنڈز اور ون ونڈو ریگولیٹری نظام کو مو¿ثر بنانا ہوگا۔ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ صرف کم قیمت پر مصنوعات تیار کرنے کا نہیں بلکہ معیار، رفتار، قابل اعتماد سپلائی اور عالمی سپلائی چینز کا حصہ بننے کا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ سے جوڑنا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایسی صنعتی و برآمدی پالیسی تشکیل دینا ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان کم ویلیو مصنوعات کے بجائے زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو روایتی سیاسی اور سکیورٹی تعاون سے آگے بڑھا کر ایک مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 20 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف محض ایک تجارتی عدد نہیں بلکہ روزگار کے نئے مواقع، صنعتی توسیع، برآمدی آمدن میں اضافے، ڈالر کی آمد اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان امریکہ تجارتی مذاکرات میں برآمدات میں اضافے، مصنوعات کے تنوع، امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی، پاکستانی کمپنیوں کی امریکی سپلائی چینز میں شمولیت، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور امریکی سرمایہ کاری کو واضح ترجیحات بنائے۔ کاروباری آسانیوں، مسابقتی توانائی نرخوں، ٹیکس اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور مارکیٹ ایکسس پر یکجا توجہ دے کر پاکستان امریکہ کو اپنی آئندہ صنعتی اور برآمدی ترقی کا ایک اہم انجن بنا سکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *