چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب پاکستان کے لیے عالمی برادری کے سامنے اہم قومی اور علاقائی معاملات مو¿ثر انداز میں پیش کرنے کا اہم موقع ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اپنے خطاب اور اہم عالمی رہنماو¿ں سے ملاقاتوں میں سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی ثالثی عدالت کے فیصلے کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ بھارت کی جانب سے معاہدے اور قانونی فیصلوں کے حوالے سے منفی رویہ جنوبی ایشیا میں پانی کے مسئلے کو ایک نئے تنازع میں تبدیل کرسکتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ وزیراعظم عالمی قیادت پر واضح کریں گے کہ پانی کا مسئلہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور علاقائی استحکام سے براہ راست وابستہ ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس معاملے کی سنگینی کا ادراک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور بھارت کے مبینہ کردار کا معاملہ بھی اقوام متحدہ اور عالمی قیادت کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔ پاکستان دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے متعلق قابلِ اعتماد شواہد اور اپنی معلومات عالمی رہنماو¿ں کے سامنے رکھے گا تاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پس پردہ عوامل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جاسکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ نیویارک میں متوقع ٹرمپ۔شہباز ملاقات بھی پاکستان کے لیے غیر معمولی سفارتی اہمیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم اس ملاقات کے ذریعے پاکستان کے قومی مفادات، علاقائی امن، سندھ طاس معاہدے اور بھارت سے متعلق اہم معاملات پر مو¿ثر سفارتی رابطہ کاری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس پاکستان کی سفارتی ترجیحات کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے، عالمی قیادت کو اعتماد میں لینے اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کا مو¿قف مو¿ثر انداز میں پیش کرنے کا اہم موقع ثابت ہوگا۔
بلو چستان
وزیراعظم اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرینگے، سینیٹر محمد عبدالقادر