میر رضا کیس تحقیقاتی کمیشن نے پولیس پر شواہد چھپانےکا الزام لگاتے ہوئے تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نوٹس جاری کردیا۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے دوستوں ہیثم، رازق اور سابق ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی کے بیانات قلم بند کرلیے۔ ہیثم اور رازق سے آخری ملاقات، کمرے اورگاڑی کی تلاشی اور کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق سوالات کیے۔ہیثم کی جانب سے میر رضا کے سی ڈی آر نکلوائے جانے پر کمیشن نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتنی جلدی تو سی ڈی آر ہمیں بھی نہیں ملتا۔
میر رضا کے دوست ہیثم نے بتایا کہ میر رضا پہلے بھی غائب ہوتا رہا ہے، اس بار واٹس ایپ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہونے سے پریشانی ہوئی۔ میر رضا اور بزنس پارٹنر احمد میں کبھی کبھار کوئی بات ہوجاتی تھی، ورنہ دونوں کے کاروباری تعلقات اچھے تھے۔ میر رضا کے دوسرے دوست رازق نے بتایا کہ میر رضا نے کھانےکے بعدکہا وہ آخری بار بل دے رہا ہے۔
کمیشن نے میر رضا کے دوستوں کے بیانات کمیشن کو فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیےکہ کمیشن سے بیانات چھپائے جارہے ہیں۔ بعد میں کیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے بیانات کمیشن کو جمع کروادیےگئے۔
کمیشن نے فیروز آباد اور گلستان جوہر کے روزنامچے سیل کرکےکل کمیشن میں پیش کرنےکا حکم بھی دیا۔کمیشن نے کہا پولیس نےکمیشن کو گمراہ کرنےکے لیے تمام ریکارڈ نہیں دیا، والدین کے خدشات درست لگتے ہیں، میر رضا کے دوست رازق کا تین گھنٹے بیان لیا گیا، کمیشن کو بیان کی صرف سات لائنیں دی گئیں۔
جسٹس عمر سیال نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ انکوائری کریں کہ مزید کوئی فرانزک یا کیمیکل رپورٹس رہ تو نہیں گئی۔
کمیشن نے سابق ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی سے بھی سوالات کیے، کرائم سین کو محفوظ نہ بنانے اور شواہد جمع کیے بغیر باڈی منتقل کرنے ہر برہمی کا اظہار کیا اور کہا نہ آپ نے کرائم سین یونٹ طلب کیا اور نہ ہی موقع کا میمو بنایا۔
کمیشن نے ابتدائی سرچ کے باوجود اہم شواہد بعد میں ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ سابق ایس ایچ او کامران قریشی نے کمیشن کو بتایا کہ پستول کا ہولسٹر میرے سامنے ملا،کمیشن نے ریمارکس دیے آپ کو عجیب نہیں لگا کہ 48 گھنٹے بعد اچانک ہولسٹرکیسے ملا؟ کیا آپ جھوٹے شواہد ڈالنےگئے تھے؟ ہمیں آپ مشکوک لگ رہے ہیں۔
سابق ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی نےگیسٹ ہاؤس میں غیر اخلاقی سرگرمیوں سے اظہار لاعلمی کیا۔کمیشن نےکہا چوکیدار کو غیر اخلاقی سرگرمیوں کا پتہ ہے پولیس کو نہیں؟ پولیس افسر کمیشن کی معاونت نہیں کر رہے خود کو کور کر رہے ہیں۔ میر رضا کی باڈی منتقل کرکے شواہد ضائع کیےگئے۔کامران قریشی نے بتایا گھاس کو آگ سی آئی اے کی ٹیم نے لگائی تھی۔
جوڈیشل کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ، سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر نسیم احمد کو بھی پیشی کے لیے نوٹس جاری کردیے جب کہ ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال اور ہیڈ محرر ذیشان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی۔