چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک افسوسناک حادثہ نہیں بلکہ ہسپتال کے حفاظتی نظام، انتظامی نگرانی اور ہنگامی ردعمل پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ 14 معصوم جانوں کا ضیاع پورے ملک کے لیے انتہائی دلخراش سانحہ ہے۔ نومولود بچے اپنے دفاع یا خود کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ایسے میں ہسپتال کا عملہ ہی ان کے والدین، محافظ اور نجات دہندہ ہوتا ہے۔ حساس ترین وارڈ میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، فعال حفاظتی آلات، تربیت یافتہ عملے اور مو¿ثر ڈیوٹی نظام میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد ایمرجنسی راستوں اور دروازوں کی صورتحال، راستوں کے محدود ہونے اور عملے کی موجودگی سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے دو ڈاکٹروں اور چار نرسوں کے ڈیوٹی پر موجود ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ ان مختلف بیانات اور تضادات کی موجودگی میں ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل طور پر غیر جانب دار، شفاف اور حقائق پر مبنی ہوں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ حکومت تحقیقات کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھے۔ یہ واضح کیا جائے کہ آگ کیسے لگی، فائر سیفٹی نظام کیوں مو¿ثر ثابت نہ ہوا، ایمرجنسی راستے قابلِ استعمال تھے یا نہیں، ڈیوٹی روسٹر پر موجود اہلکار کہاں تھے، فائر الارم اور دیگر حفاظتی آلات فعال تھے یا نہیں، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ انتظامات مکمل تھے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقات کا حکم اور وفاقی سیکریٹری صحت کی معطلی ابتدائی اقدامات ہیں، تاہم اصل امتحان شفاف اور بلاامتیاز احتساب ہے۔ اگر تحقیقات میں کسی فرد، افسر یا اہلکار کی مجرمانہ غفلت یا بے احتیاطی ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے واضح کیا کہ کسی ماتحت اہلکار کو محض قربانی کا بکرا بنا کر اصل ذمہ داروں کو بچانا اس سانحے کے ساتھ دوسری ناانصافی ہوگی۔ ذمہ داری جس بھی سطح پر ثابت ہو، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال صرف علاج گاہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی آخری پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ حکومت ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کا فوری اور جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرائے، جس میں ایمرجنسی ایگزٹ، آکسیجن سسٹم، بجلی اور اے سی تنصیبات، فائر الارم، فائر فائٹنگ آلات، عملے کی تربیت، ڈیوٹی روسٹر اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا جائزہ لیا جائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ 14 معصوم جانوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن ان کی موت کو ایک ایسے محفوظ اور مو¿ثر نظام کی اصلاح کا نقطہ آغاز ضرور بنایا جا سکتا ہے جس میں آئندہ کسی خاندان کو ایسی ناقابلِ برداشت آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ انصاف صرف ذمہ داروں کو سزا دینے سے مکمل نہیں ہوگا بلکہ ایسا مضبوط نظام قائم کرنے سے ہوگا جس میں غفلت اور مجرمانہ بے احتیاطی کے لیے کوئی گنجائش نہ ہو۔ حکومت اس سانحے سے سبق حاصل کرے اور یقینی بنائے کہ آئندہ کسی ماں کو ہسپتال کی غفلت یا حفاظتی نظام کی ناکامی کے باعث اپنے نومولود بچے کی لاش نہ اٹھانا پڑے۔
بلو چستان
پمزہسپتال حادثہ،انتظامی نگرانی اور ہنگامی ردعمل پر سنگین سوالیہ نشان ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر