بلو چستان

بنگلہ دیشی وزیراعظم کا بھارت کا دورہ مسترد کرنا بھارت کیلئے بڑا سفارتی دھچکا ہے، جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات میں اس وقت تک بہتری کے امکانات محدود رہیں گے جب تک سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سمیت دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی اور شہید شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان کی واپسی کے مطالبات پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی۔ بنگلہ دیش نے دوطرفہ حوالگی کے معاہدے کے تحت بھارت سے ان افراد کی واپسی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی دعوت کے باوجود بنگلہ دیشی وزیراعظم کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ نئی دہلی کیلئے ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ خطے کے ممالک اب محض بھارتی اثرورسوخ کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ فیصلہ بھارت کی علاقائی سفارت کاری اور وزیراعظم مودی کی خطے میں بھارتی قیادت کے تصور کیلئے ایک اہم چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان کے ساتھ جنگ کے بعد بھارت کی عسکری برتری کے تاثر کو بھی دھچکا پہنچا، جبکہ بنگلہ دیش کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھارت کی علاقائی سفارتی پوزیشن کو مزید متاثر کیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں روایتی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ پاکستان کے نقط? نظر سے یہ پیشرفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک اب اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور باہمی تعلقات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تزویراتی اثرورسوخ کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کی آزاد خارجہ پالیسی بھی جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے دباو¿، اثرورسوخ اور برتری کے تاثر کے بجائے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام، خودمختاری اور مساوی مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کا دورہ مسترد کرنا اسی بدلتی ہوئی علاقائی حقیقت کا ایک نمایاں اظہار ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *